سوال: میری اپنی بیوی کے ساتھ کافی لڑائی ہو گئی ، جس سے وہ بد تمیزی پر اتر آئی ،غصہ میں , میں نے آٹھ سے دس دفعہ اپنی والدہ کے سامنے یہ کہہ دیا کہ یہ عورت" میری طرف سے فارغ ہے"صرف ان الفاظ کو میں نے استعمال کیا اپنی بیوی کا نام لیکر یا مخاطب کر کے نہیں کہا "کہ میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،نہ ہی میں نے طلاق کا لفظ استعمال کیا ، اور یہ سب کچھ ایک ہی دن میں ہوا ہے ، مجھے فتوی دے دیجئے اس پر ، کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے با قاعدہ الفاظ کے ساتھ مخاطب کر کے طلاق دی جاتی ہے نام لیکر , کہ میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، پر میں نے تو صرف اپنی والدہ کو مخاطب کر کہ کہا اس کو مخاطب کر کےنہیں کہا؟
واضح ہو کہ فارغ کا لفظ عند القرینہ طلاقِ صریح بائن کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ بیوی کی طرف سے بدتمیزی اس بات کا قرینہ ہے ، اس لئے اس جملے سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن ہو چکی ہے اگر سائل بیوی کو دوبارہ رکھنا چاہتا ہو تو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنالازم ہے ، مگر آئندہ کیلئے سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار رہے گا ، اگر سائل نے ان دو طلاقوں کا اختیار بھی استعمال کرلیا تو سائل پر اسکی بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
في الهندیة: (الفصل الخامس في الكنایات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة، ثم الكنایات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك اختاري اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري( وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام (ج 1 ص ٣٧٤) ۔
وفی الشامیة:(قوله خلية) بفتح الخاء المعجمة فعيلة بمعنى فاعلة: أي خالية إما عن النكاح أو عن الخير ح: أي فهو عن الأول جواب، وعلى الثاني سب وشتم، ومثله ما يأتي (قوله برية) بالهمزة وتركه، أي منفصلة إما عن قيد النكاح أو حسن الخلق اھ (3/298)
وفي الدر: (لا) يلحق البائن( البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول: كانت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء اھ( ج ۳ ص ۳۰۸) -