میں وساوس کا مریض ہوں اور میرے ذہن میں ہر وقت طلاق کے بارے میں وساوس آتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا نیچے بیان کی گئی صورت میں طلاق ہوجائے گی یا نہیں ؟
میں جب اپنی بیوی کو فون کرتا ہوں تو میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ جب بیوی نے فون اٹھایا تو اسے طلاق ہو جائے گی ،کیا ایسے دل میں خیال آنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟
محض دل میں طلاق کا خیال آنے سےشر عا کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا سائل کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کمافی ردالمحتار : (قوله وموسوس)بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث الوسوسة حديث النفس، وإنما قیل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله اھ (224/4)