السلام علیکم! کیا عورتوں کا مسجد میں جا کر نماز پڑھنا فرض ہے؟ کیا قرآن میں ایسی کوئی آیت ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورتوں کو مسجد جا کر نماز پڑھنا چاہیے؟ اگر اللہ نے قرآن میں ایسا حکم دیا ہے تو علماء کرام کیون عورتوں کا مسجد جا کر نماز پڑھنا پسند نہیں کرتے؟ یہاں کنیڈا میں کچھ مدارس خاص کر ڈاکٹر فرحت ہاشمی کی ’’الہدیٰ انٹرنیشنل‘‘ کی دی ڈی میں عورتوں کو یہ پڑھایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ کا حکم ہے کہ عورتیں مسجد میں نماز پڑھیں، آپ اس بارےمیں تفصیل سے جواب دے کر ہماری راہ نمائی فرما دیں۔
قرآن کریم کی کسی آیت کریمہ یا کسی بھی صحیح، صریح اور غیر معارض حدیث مبارکہ میں عورتوں کے لیے قطعاً یہ حکم موجود نہیں کہ اُن کا مسجد جا کر نماز پڑھنا لازم ہے ورنہ ان کی نماز ادا نہیں ہوگی۔
جبکہ ایسی کئی ایک احادیث مبارکہ موجود ہیں، جن میں عورتوں کے مسجد جا کر نماز پڑھنے پر ممانعت اور گھر کے مستور سے مستور حصہ میں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر اُسے افضل نماز قرار دیا گیا ہے۔ اور اگر ڈاکٹر صاحبہ موصوفہ اس مسئلے سے متعلق درج بالا ترتیب کے موافق قرآن کریم کی آیت کی نشان دہی کر دے تو اس پر بھی غور کیا جائےگا۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها» . رواه أبو داود اھ (1/ 334)
وفی صحيح مسلم: عن عمرة بنت عبد الرحمن، أنها سمعت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم تقول: «لو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى ما أحدث النساء لمنعهن المسجد كما منعت نساء بني إسرائيل» قال: فقلت لعمرة: أنساء بني إسرائيل منعن المسجد؟ قالت: «نعم» (1/ 329)
وفی السنن الكبرى للبيهقي: عن سعد بن إياس قال: رأيت عبد الله يخرج النساء من المسجد يوم الجمعة ويقول: "اخرجن، فإن هذا ليس لكن" اھ (3/ 265)