السلام علیکم !
میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہوں؟ ہمیں حکومت کی طرف سے دورانِ سروس کچھ قرضہ جات دیے جاتے ہیں ،جو کہ” اے جی پی آر “سے جاری ہوتے ہیں، ان میں سے چند قرضوں پر حکومت سود نہیں لیتی، جبکہ کچھ پر سود لیا جاتا ہے ؟ ان قرضہ جات میں ”کار ایڈوانس “ جو کہ مقرر کردہ رقم 450000 ہے ،دیا جاتا ہے ،اور اس کی کٹوتی 120 اقساط میں کی جاتی ہے،اور بعد میں سود کی رقم کاٹی جاتی ہے ؟ کیا اس طرح کے قرضہ جات ایک سرکاری ملازم لے سکتا ہے ؟اور ملازم پر سود کی شرعی حیثیت کیا ہو گی ؟اور کیا ملازمین کو یہ قرضہ لینا چاہیئے ؟
حکومتی ادارے” اے جی پی آر“ کی طرف سے جو قرضے بغیر سود کے دیے جاتے ہیں، ان قرضوں کا لینا جائز اور درست ہے ۔ البتہ جن قرضوں پر سود لیا جاتا ہے،ان کا لینا نا جائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134) ۔
وفي تكملة فتح الملهم: عن فضالة بن عبيد موقوفا: (كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا) (إلى قوله) وتكون كل زيادة على القرض ربا، سواء اتضح لنا وجه الظلم فيها، أولم يتضح (إلى قوله) أن الرباحرام مطلقا، اھ(۱/ ۵۷۵)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0