ٹیلی فون پر بیوی سے بات کرتے کرتے تلخی انتہائی بڑھ گئی کہ بغیر ارادہ کے غصہ میں وہ بھی بیوی کے دلوانے پر آیا اور اس صورت حال میں لفظ طلاق کہہ بیٹھا اور تین دفعہ کہہ دیا غصہ میں گالی کی جگہ پر بعد میں احساس ہوا یہ غلط کہہ دیا،طلاق ہوئی یا نہیں؟ کوئی ارادہ نہیں تھا،سوچ بھی نہیں تھا ۔
صریح الفاظ طلاق بغیر نیت کے کہہ دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، مگر سائل نے استعمال ہونے والے جملے نہیں لکھے اگر وہ لکھ کر بھیج دے تو اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔
کمافی تنویر الابصار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (ويقع بها) (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) (أو لم ينو شيئا) الخ(3/250)