وضو

دوا کے طور پر ناخن پالش لگا کر وضو کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
31160
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

دوا کے طور پر ناخن پالش لگا کر وضو کرنے کا حکم

میرے ناخن خراب ہوجاتے ہیں اور ان میں بہت درد ہوتا ہے ، مختلف ڈاکٹروں کو دکھایا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ پانی سے الرجی ہے ، اس صورت میں اگر نیل پالش لگانے سے پانی ناخن پر نہ لگے ،تو کچھ بہتری ہوسکتی ہے ، اس صورت میں ناخن پالش بطورِ علاج جائز ہوگی اور میرا وضو ،غسل اور نماز درست ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر ناخن پالش کے علاوہ کوئی دوسری ایسی دوا میسر نہ ہو یا میسر تو ہو مگر مفید اور کار آمد نہ ہو اور ناخن پالش لگانے کو ڈاکٹر اور ماہر معالج مفید بتاتے ہوں ، تو اس صورت میں سائلہ بطورِ جبیرہ ناخن پالش لگا کر وضو کرسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (تيمم لو) كان (أكثره) أي أكثر أعضاء الوضوء عددا وفي الغسل مساحة (مجروحا) أو به جدري اعتبارا للأكثر (و بعكسه يغسل) الصحيح و يمسح الجريح اھ (1/ 257)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 31160کی تصدیق کریں
0     580
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات