السلام علیکم! ایک سوال نے میرے ذہن کو بے حد متاثر کیا ہوا ہے، جب میں نے ایک تقریر سنی تو میں ایک پل کے لئے سکتے میں آگئی، کہ ہم کہاں آگئے، کتنے گر گئے، جس کو قرآن جیسی معتبر کتاب ملی، خیر الامم جیسا لقب دیاگیا، خیر وہ ایک حدیث پڑھی جس کے بعد مجھے اللہ کی قسم چین نہیں ملتا، حدیث تھی کہ آخری دور میں مرد اپنی بیویوں سے زنا کریں گے، پھر اس کی وضاحت کی گئی، کہ ان سے کفر ہوجائے جس کی وجہ سے انکا ایمان جاتا رہے، اور نکاح بھی ٹوٹ جائے،تو میرا سوال یہ ہے کہ کہنے کو تو جیسا کہ دیکھنے کو ملتا ہے، کہ لوگ نہ جانے کتنی دفعہ ایسے کفریہ الفاظ استعمال کرتے ہیں، جن کا شمار وہ خود نہیں کرسکتے، اور انہیں یاد تک نہیں رہتا، اور سب سے بیغیرتی کی بات یہ ہے کہ وہ اسے گناہ سمجھتے ہی نہیں ہلکا لیتے ہوئے مذاق سمجھتے ہیں، مثلاً کفریہ الفاظ کے بارے میں بتایا گیا کہ دو آدمی بیٹھے شریعت کی کسی بات پر گفتگو کررہے تھے، اسے ایک نے کہا یہ تو شریعت کی بات ہے اور دوسرے نے جواب میں مزاحیہ طور پر کہہ دیا یار پرے رکھ شریعت کو ، تو ایسا کہنے پر وہ شخص کافر ہوگیا، یا عورتیں بعض دفعہ مصیبت آنے پر شکایت کرتی ہیں، میرے ساتھ اس کو ایسا کرنا ( نعوذباللہ) اللہ کو ہم ہی ملے تھے، پوری دنیا میں کوئی اور نہیں ملا، مطلب اللہ کی حکمت و مشیت پر اپنے سوال کھڑے کرنا یہ بھی ایمان سے خارج کردیتا ہے، تو میرا سوال یہ ہے کہ آدمی اپنا دھیان رکھتا نہیں کہ کیا بولا، کیا نہیں بولا، اپنا دھیان رکھنا چاہیئے، مگر کہنا یہ تھا کہ اگر کسی کے شوہر بیوی کی غیر موجودگی میں ، آفس میں یا اپنے یار دوستوں کے درمیان ایسے کچھ کفریہ کلمات نکالے، جس کا علم بیوی بیچاری کو تو نہیں ہوگا، اول تو وہ کافر ہوگیا، جب تک کلمہ پورا نہ پڑھے ایمان نہیں آتا، مگر پڑھنے کے بعد بھی مسلمان تو ہوگیا، مگر جو نکاح ٹوٹا تھا اب رشتہ قائم کرنے کے لئے دوبارہ نکاح ہی ہوگا، اور دوسرا یہ ہے کہ اس نے وہ لفظ نکالے اور کفر کیا اور ادھر نکاح ٹوٹا، ایسی حالت میں تو بیچاری بیوی کے ساتھ خلوت کرے، اٹھے، بیٹھے جو کچھ بھی کرے، بیوی تو گناہ گار نہیں ہوگی؟ اور اگر مان لیا پوری زندگی ایسی ہی رہی اس نے کلمہ پڑھا اور نہ دوبارہ نکاح کیا، تو مرنے کے بعد بیوی کو سزا ہوگی؟ اور اگر معلوم بھی ہو اور زبان پر کنٹرول نہیں رہتا اور دن بھر میں دس دفعہ مذاق میں کفر کے الفاظ کہے تو کیا دس دفعہ نکاح کرنا ہوگا؟ اور حدیث میں دونوں باتیں ملتی ہیں، ایک نکاح ٹوٹ جانے کا دوسرا آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کو حکم دیا کہ جب زبان سے کفریہ الفاظ نکلیں تو پہلا کلمہ پڑھ کر اس کا کفارہ ادا کرو، تو مسئلہ صرف کلمہ دہرانے سے حل ہوجائے گا؟ یا نکاح کرنا ہوگا؟ چاہے جتنی دفعہ بول کر کفر کیا ہو؟
بے خیالی میں زبان سے کفریہ کلمات نکل جانا حساس نوعیت کا ہے، اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، مگر جب تک شوہر یا بیوی کے کلمہ کفر بولنے کا یقین نہ ہو، اس وقت تک بلاوجہ پریشان ہونے اور شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں، جبکہ یقینی طور پر کلمہ کفر سے تجدید ایمان و نکاح ضروری ہے۔
کما فی الھندیۃ: ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط الخ (ج2 صـ283 ، ط: دار الفکر)۔
واللہ اعلم بالصواب
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1