میرے سسرال چاہتے تھے کہ میں رشتہ ختم کردوں اور اپنی بیوی کو طلاق دے دوں مگر میں طلاق دینا نہیں چاہتا تھا ایک دن میرے گھر والوں نے مجھ پر زورو زبرستی سے طلاق کے پیپر پر دستخط کروا لیے ہیں میں اس وقت غم کی حالت میں تھا اور میں نے پیپر پڑھے بغیر دستخط کر دیے اور وہاں گواہ بھی موجود نہیں تھے ، اب ہم پھر سے رجوع کرنا چاہتے ہیں اس مسئلہ کا تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
سائل نے یہ واضح نہیں کیا کہ طلاق نامہ میں کتنی طلاقیں درج تھیں، اور زبردستی کی کیا صورت تھی ، تاہم اگر” زور زبردستی “سے مراد ا ن کا طلاق پر اصرار ہو، اور سائل کو اس وقت معلوم ہو کہ یہ طلاق کے پیپرز ہیں ، اور اس میں تین طلاقیں درج ہوں ، اور سائل نے اس پر دستخط کر دیا ہوا ,اگر چہ سائل نے وہ طلاق نامہ نہ پڑھا ہو اور گواہ بھی نہ ہوں ، تب بھی اس کی وجہ سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب جوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، دونوں میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراْ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
البتہ اگر معاملہ کی نوعیت اس سے مختلف ہو تو اسکی تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال بھیج دیا جائے، ان شاء اللہ اس کے مطابق حکم ِشرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
كما في الهندية : وان كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ، ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب : أما بعد: فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة الخ ( ج ۱ ص ۳۷۸ ) ۔
وفي رد المختار : تحت ( قوله: و أهله زوج عاقل الخ ) ... فيقع طلاق العبد و السكران بسبب محظور والكافر و المريض و المكره و الھازل و المخطىء كما سيأتي الخ ( ج ۴ ص ۴٣۰ )۔