میرا ابھی نکاح نہیں ہوا ہے، صرف منگنی ہوئی ہے، کچھ دن پہلے میں نے غصے میں اپنی منگیتر سے کہا کہ تجھے طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ، میں نے اپنے دوست جو کہ مولانا ہیں ان سے پوچھا انہوں نے کہا کہ شادی سے پہلے طلاق نہیں ہوتی ہے، اس بات کے کچھ عرصے کے بعد میں ان ہی مولانا کے ساتھ باتیں کر رہاتھا کوئی مذاکرۂ طلاق نہیں تھا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر وہ یعنی منیگتر یہ کہتی ہے کہ مجھے تمہاری ماں کے ساتھ نہیں رہنا تو میں نے جواب دیا کہ اگر وہ مجھ سے یہ کہے گی تو میں اس سے کہوں گا کہ شادی سے پہلے تو نہیں ہوئی اب ہو گئی پھر گئی دو یعنی وہ پہلے والی دو، وہ مولانا کہتے ہیں کہ تم نے کہا تھا کہ میں کہوں گا یہ وعدہ ہے، مفتی صاحب اب آپ ہی اس کے بارے میں کوئی درست حکم صادر فرما ئیں ۔
سائل پر مذکورہ الفاظ "اگر وہ مجھ سے یہ کہے گی تو میں اس سے کہوں گا کہ شادی سے پہلے تو نہیں ہوئی، اب ہو گئی، پھر گئی دو، یعنی وہ پہلے والی دو" سے کوئی طلاق واقع نہ ہوئی ، تاہم آئندہ کے لئے اس قسم کے الفاظ کہنے سے احتراز چاہیئے ۔
کمافی الفتاوی الھندیة:ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لاجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الکافی اھ (1/420)۔ واللہ اعلم بالصواب