السلام علیکم !
میری ایک بچی ہے جو بہت ضدی ہے، جسکی وجہ سے ماں اس کو مارتی ہے، میں دبئی میں ہوتا ہوں، ایک دن گھر میں فون کیا، تو ماں نے بتایا کہ تيری بیوی نے بچی کو تھپڑ مارا جسکی وجہ سے وہ چار پائی پر گری ، اور اس کی آنکھ میں گہری چوٹ آئی، تو میں نے ماں سے کہا کہ اگر آئندہ یہ ایسا کام کرے تو بچی کو روک کر رکھ لیں ،اور یہ چلی جائے مجھے نہیں چاہیئے , لیکن یہ الفاظ کہتے وقت بیوی کو چھوڑنے یا طلاق دینے کی کوئی نیت یا ارادہ نہں تھا بلکہ صرف بیوی کو تنبیہ دینے کی نیت سے کہا تھا تو کیا میرے اس الفاظ سے طلاق ہوئی یا نہیں ؟
سائل نے مذکور الفاظ سے بیوی کو فقط دھمکی دی تھی طلاق کا ارادہ نہیں تھا تو اس سے سائل کی بیوی پر آئندہ بچی کو مارنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،تاہم سائل کو اس طرح کے الفاظ ادا کرنے سے آئندہ احتراز چاہیئے تاکہ بلاوجہ زوجین کے درمیان شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں ۔
کمافی الدر المختار:(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب(فنحو اخرجي واذهبي وقومي)أي من هذا المكان لينقطع الشر فيكون ردا أو لأنه طلقها فيكون جوابا رحمتي اھ (3/297/298)۔
وفی البحر الرائق:وحاصل ما في الخانية أن من الكنايات ثلاثة عشر لا يعتبر فيها دلالة الحال ولا تقع إلا بالنية: حبلك على غاربك، تقنعي، تخمري، استتري، قومي، اخرجي، اذهبي، انتقلي، انطلقي، تزوجي الخ (3/327)۔