وضو

پروسٹیٹ گلینڈ میں مبتلا شخص کی وضو اور نماز کا حکم

فتوی نمبر :
28688
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

پروسٹیٹ گلینڈ میں مبتلا شخص کی وضو اور نماز کا حکم

پروسٹیٹ گلینڈ کی بدولت پیشاب کی نالی لگی ہے ، کیا اس صورت میں نماز اور وظائف پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟ راہ نمائی فرمائیں ؟ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور پیشاب کی نالی لگانے کے بعد پیشاب کے قطرے مسلسل آتے ہیں یا رک گئے ہیں ؟ اگر مسلسل پیشاب کے قطرے آتے ہوں تو سائل شرعا معذور ہے اور معذور کا حکم یہ ہے کہ وہ وقت کی نماز کے لیے وضو کرے اور وقت کے اندر فرض نفل وغیرہ عبادات بجا لائے ،جبکہ شرعی معذور بننے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً ادائیگی ظہر کے لیے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض ظہر ادا کرے ۔ اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کے لیے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے نماز عصر با جماعت ادا کرے اس دوران اگر کچھ قطرے گر بھی جائیں تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ۔ اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کر لیا کرے اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ۔ البتہ اس دوران اگر پورا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعا وہ معذور نہیں رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) (إلى قوله) (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) اھ (1/ 305) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 28688کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات