میں الحمد للہ ہرسال عمرہ پر جاتا ہوں، کبھی کبھی سال میں دو دفعہ بھی چلا جاتا ہوں، میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اب سے دو یا تین دفعہ پہلے جب میں عمرے پر گیا تھا ، تب ہم مکہ سے مدینہ جارہے تھے، تو جیسے ہی میں نے مسجد نبوی کے مینار دیکھے جو کہ ہوٹل پہنچنے سے پہلے راستے میں نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں، انہیں دیکھتے ہی میرے دل میں یہ خیال آیا کہ نعوذباللہ کوئی ہمارے پیارے نبی ﷺ کو برا بھلا کہہ دے، یا نعوذباللہ گالی دیدے، تو اس کا کیا حشر ہوگا، میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ پتہ نہیں اچانک سوچ کو کیا ہوا ایسے لگا کہ ایسا کرکے دیکھوں تو کیا ہوتا ہے، میرا دل اور دماغ اس کے لئے راضی نہیں تھا، مگر سوچ کو روک نہیں پارہا تھا، پھر مجھے نہیں پتہ کہ میں نے ایسا کیا یا نہیں کیا، مجھے یہ لگتا ہے کہ میں نے ایسا کیا ہے، جب سے آج تک اس کفر میں مبتلا ہوں، ہر روز کئی بار یہ خیال الگ الگ طریقوں سے میری سوچ میں آتے رہتے ہیں، کبھی سوچتا ہوں کہ خود کشی کرلوں، کبھی خود کے دل پر مکے مارتا ہوں، انگلیاں گھاڑھتا ہوں، دیوار پر سر مارتا ہوں، ہاتھ میں ریمورٹ ہوتا ہے اسے سر پر مارتا ہوں، آج تو ریمورٹ بھی ٹوٹ گیا، اس واقعہ کے بعد بھی میں کئی بار عمرہ پر جاچکا ہوں، وہاں بھی یہی خیال آتے ہیں، ٹی وی پر کوئی چیز دیکھتا ہوں، فلم وغیرہ تو انہیں ان حیثیتوں سے ملا دیتی ہے، جن کے ہم خیال بھی نہیں کرتے، مکہ مدینہ میں معافی مانگی اپنے رب سے، اور اللہ سے اپنی موت کی دعابھی مانگی، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ میں اسلام سے خارج ہوچکا ہوں، آپ میری پریشانی کا حل بتائیں؟
سائل نے اگر قصداً زبان سے کفریہ الفاظ ادا نہ کیے ہوں، فقط وساوس آتے ہوں، تو اس طرح ایمان کے منافی وساوس آنے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، خصوصاً جبکہ ان وساوس کو دل سے برا بھی سمجھا جارہا ہو، تو یہ عین ایمان کی علامت ہے، اس لئے سائل کو بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، البتہ کوئی جملہ زبان سے نکل گیا ہو تو اس پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے، اور وساوس کے وقت " لاحول ولا قوۃ "کثرت سے پڑھے ، ان شاء اللہ بہتر ہوگا۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة، قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: «وقد وجدتموه؟» قالوا: نعم، قال: «ذاك صريح الإيمان» (الی قولہ) عن عبد الله، قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الوسوسة، قال: «تلك محض الإيمان» الحدیث (ج1 صـ119 ط: دار احیاء التراث العربی)۔
وفی الدر المختار: (وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس الخ (ج4 صـ224 ط: دار الفکر)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (فليستعذ بالله) : طردا للشيطان إشارة إلى قوله تعالى: {إلا عبادك منهم المخلصين} [الحجر: 40] وإيماء إلى قوله - عليه الصلاة والسلام -: (لا حول ولا قوة إلا بالله) فإن العبد بحوله، وقوته ليس له قوة المغالبة مع الشيطان، ومجادلته، فيجب عليه أن يلتجئ إلى مولاه، ويعتصم بالله من الشيطان الذي أوقعه في هذا الخاطر الذي لا أقبح منه الخ (ج1 صـ137 ط: دار الفکر)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1