میں نے فقہ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ اشارہ، کنایہ سے بھی طلاق ہو جاتی ہے، اس وجہ سے میں بہت محتاط اور وہمی ہو گیا ہوں ، مجھے اشارہ کنایہ کے بہت وسوسے آتے ہیں، میں اپنی کزن سے میسج میں بات کر رہا تھا، میری بیوی کو بر الگا تو میں نے اپنی کزن کےلئے کہا چھوڑ دوں ؟ تو بیوی نے کہا ، ہاں تو میں کزن کو چھوڑنے کے لئے کہا چھوڑدیا، مگر اسی وقت کزن کے تصور کے بعد بیوی کی طرف چھوڑنے کا تصور چلا گیا، جبکہ پہلے سے میرا کوئی ارداہ یانیت نہیں تھی ، اب میں بہت پریشان ہوں کہ کہیں میرا نکاح ختم تو نہیں ہو گیا، کہیں قیامت کے دن میں مجرم تو نہیں ہوں گا؟
طلاق کے خیالات و تصوّر آنے سے شرعا ً طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں کزن کیلئے چھوڑنے کا لفظ بولنے کےبعدسائل کو اپنی بیوی کے متعلق خیال آنے سے اسکی بیوی پرشرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلاوجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔
کمافی الھندیة: (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق اھ(1/348)-