مجھے ہوا خارج ہونے کا بہت شدید مسئلہ ہے اور نماز کے لئے وضو بار بار کرنا پڑتا ہے،تو کیا مجھ پر شرعی معذور ہونے کا حکم لاگو ہوگا۔
سائل کو خروج ریح کی شکایت اگر اس قدر ہو کہ وضو کرکے طہارت کے ساتھ وقت کی فرض نماز بھی فرض طریقہ سے پڑھنا ممکن نہ ہو تو سائل معذور کے حکم میں داخل ہے اور وہ ہرنماز کے وقت کے لئے وضو کرکے اس وقت کے اندر جتنے بھی فرض نفل وغیرہ نمازیں ہیں تمام پڑھ سکتا ہےاور مذکور عذر کی وجہ سے اس کا وضونہیں ٹوٹے گا ،البتہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو پیش آنے یا وقت گذرنے کے ساتھ وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور دوسرے وقت کے لئے علیحدہ وضو کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل الخ
(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق،
وفی رد المحتار: (قوله: تمام الوقت حقيقة) (الیٰ قوله) ولو عرض بعد دخول وقت فرض انتظر إلى آخره، فإن لم ينقطع يتوضأ ويصلي ثم إن انقطع في أثناء الوقت الثاني يعيد تلك الصلاة وإن استوعب الوقت الثاني لا يعيد لثبوت العذر حينئذ من وقت العروض اھ (1/305)۔
وفی الھندیة: شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر اھ (1/40)۔