وضو

کون مہندی لگانے کے بعد وضو کا حکم

فتوی نمبر :
26012
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

کون مہندی لگانے کے بعد وضو کا حکم

السلام علیکم ! مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آج کل جو کیمیکل والی کون مہندی آرہی ہے ، جو کہ چھلکوں کی طرح سے اترتی ہے ، اس سے آیا وضو ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے وضو نہیں ہوتا ، کیونکہ کھال تک پانی نہیں پہنچتا ، جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وضو ہوجاتا ہے ، کیونکہ وہ مہندی کھال کے ساتھ اترتی ہے ، کیمیکل کی وجہ سے ۔ براہِ مہربانی جلد جواب دیں ، بہت مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کیمیکل والی کون مہندی سے بدن پر ایسی تہہ نہیں جمتی ، جو بدن تک پانی پہنچانے سے مانع ہو ، اس لئے اس کے لگے رہنے کی حالت میں بھی وضو وغیرہ درست ہوجاتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و لا يمنع) الطهارة (و نيم) أي خرء ذباب و برغوث لم يصل الماء تحته (و حناء) و لو جرمه به يفتى (الیٰ قوله) (و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى و قيل إن صلبا منع و هو الأصح الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله : به يفتى) صرح به في الخلاصة و قال : لأن الماء شيء لطيف يصل تحته غالبا اهـ و يرد عليه ما قدمناه آنفا و مفاده عدم الجواز إذا علم أنه لم يصل الماء تحته ، قال في الحلية و هو أثبت اھ(1/154)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 26012کی تصدیق کریں
0     918
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات