السلام علیکم! میں نے آج سے 20 سال پہلے ایک شخص سے پیسے اور ادھار لیے تھے، وہ شخص بہت سے لوگوں کو ادھار دیتا تھا،مگر ادھار واپسی پر پیسے کچھ زیادہ لیتا تھا ،مجھے معلوم ہونے کے باوجود میں نے اس شخص سے 5 ہزار اداھار لیے اور واپسی 6 ہزار کرنے پر راضی ہو گیا تھا، میں نے 3000 ہزار ادا کر دیے ، اس کے بعد میں نے وہاں سے نوکری چھوڑ کر دوسری جگہ نوکری شروع کر دی اور میں نے ہر بار بہت کوشش کی کہ اس شخص کے بقیہ پیسے ادا کر دوں، مگر نہیں کر سکا۔ اب یہ میرے لیے ایک بوجھ بن گیا ہے ، جب میں 20 سال بعد ان کے پیسے ادا کرنے گیا تو مجھ سے ان کی ملاقات نہیں ہو سکی اور معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہیں ، ایک اور بات آپ سے بولنی تھی کہ جب میں نے اس شخص سے پوچھا کہ آپ جو پیسے مزید لیتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے کیونکہ وہ شخص بہت بزرگ تھے تو اس شخص نے جواب میں کہا کہ میں یہ پیسے اپنے مرحوم بیٹے کی بیوی سے لیتا ہوں اور جو پیسے مزید ملتے ہیں وہ بھی اپنے مرحوم بیٹے کی بیوی کو دیتا ہو ؟ اب آپ سے مجھے یہ فتوی چاہیئے کہ اسلام کی روشنی میں اب میں یہ پیسے کہاں استعمال کرو ں جس سے میرا یہ ادھار کا بوجھ ختم ہو جائے اور کیا مجھے وہ مزید پیسے بھی ادا کرنے ہو نگے ؟ آپ کے تعاون کا شکریہ
سائل نے جس سے قرض لیا ہے جب اس نے صراحت کر دی ہے کہ یہ مرحوم بیٹے کی بیوی کے ہیں تو اس کا بیوہ خاتون کو یا اس کے وارثوں کو اصل قرض کی بقیہ رقم پہنچانا لازم ہے، تاہم اگر با وجود تلاش اور کوشش کے ان کا سراغ نہ مل سکے تو بقیہ دو ہزار مرحوم کی طرف سے صدقہ کر دے امید ہے کہ اخروی مواخذہ سے سبکدوشی ہو جائے گی۔
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0