السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جناب مفتی صاحب ایک مسلمان اقرار نامہ، میں اپنی کسی جائداد کی بابت وقف قائم کرنے کا اقرار کرتا ہے، بعد میں عدالت میں جاکر اس اقرار نامہ کی تصدیق کرتا ہے،کیا اس سے وقف قائم ہوجاتا ہے؟کیا اس وقف کو وارث واقف کی وفات کے بعد واقف کو پاگل دلوا کر منسوخ کروا سکتا ہے یا نہیں؟واقف کا عدالت میں اقرار نامہ کو تسلیم کرنے سے مستقل وقف قائم ہوگیا تھا، کیا ایسا وقف منسوخ کروایا جاسکتا ہے؟والسلام
سائل کا بیان انتہائی مبہم ہے، نہ تو اس میں موقوفہ شے کا ذکر ہے اور نہ ہی وقف کی صورت مذکور ہے اور نہ ہی واقف کے الفاظ، تاہم اگر وقف محض کاغذی طور پر ہو اور عملاً وقف نہ کیا ہو تو محض لکھ دینے سے وقف تام نہیں ہوتا، اس لئے اس کی منسوخی بھی لایعنی حرکت ہے، ورنہ جو بھی تفصیل ہو دوبارہ لکھ کر حکمِ شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیة: قال شمس الأئمة السرخسي: والذي جرى الرسم به في زماننا أنهم يكتبون إقرار الواقف أن قاضيا من القضاة قضى بلزوم هذا الوقف فذاك ليس بشيء اھ(2/351)۔