السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! گذارش یوں ہےکہ میں ایک مدرسہ میں پڑھاتا ہوں ، وہاں کا مہتمم جو کہ بہت ناانصافی کرتا ہے مدرسہ کے ساتھ اور بچوں کے ساتھ ، مثلاً مدرسہ میں گوشت ، چاول ، تیل وغیرہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں ، جو وہ گھر میں استعمال کرتا ہے ، اور یہ جنس ہے ، نقد کی تو بات ہی نہیں ہے ، کیا اس کے لئے یہ سب چیزیں حلال اور جائز ہیں ؟ مہربانی کر کے اس کے بارے میں وضاحت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ مدرسہ میں جو اشیاءِ خورد و نوش اور نقدی وغیرہ خالص طلبہ کرام کے نا م پر دی جاتی ہیں ، ان اشیاء کو فقط طلبہ پر ہی خرچ کرنا لازم ہے ، کسی استاد یا مہتمم کے لئے ان اشیاء میں سے کچھ حصہ یا سارا کا سارا اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ، البتہ ایسی اشیاء جو مدرسہ میں طلبہ و اساتذہ دونوں کے نام پر دی جائیں ، تو ان اشیاء میں سے مدرس یا مہتمم اپنے حصہ کے بقدر چیز لے کر ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے ، لیکن ایسی صورت میں بھی اپنے حصہ سے زیادہ یا دی گئی پوری کی پوری چیز لے کر مہتمم یا مدرس کا اپنے گھریلو استعمال میں لاکر طلبہ کو محروم رکھنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی ردالمحتار تحت ( قولہ ان یحصون جاز ) ھذا الشرط مبنی علی ما ذکرہ شمس الائمۃ من الضابط و ھو انّہ اذا ذکر للوقف مصرفا لا بد ان یکون فیھم تنصیص علی الحاجۃ حقیقۃ کالفقراء او استعمالا بین الناس کالیتامی و الزمنی ، لان الغالب فیھم الفقر ، فیصح للاغنیاء و الفقراء منھم ان کانوا یحصون ، و الّا لفقرائھم فقط ، و متی ذکر مصرفا یستوی فیہ الاغنیاء و الفقراء ، فان کانوا یحصون صح باعتبار اعیانھم و الّا بطل الخ ( ج4 ص365 کتب الوقف مطلب متی ذکر للوقف مصرفا ط: سعید ) ۔
و فی المبسوط للسرخسی : و لیس للمودع حق التصرف و الاسترباح فی الودیعۃ و لھٰذا لایسافر من طریق البحر الخ ( 11 ص 122 کتاب الودیعۃ ط: دار الکتب العلمیۃ ) ۔
و فی البحر الرائق : و فی القنیۃ و لا یجوز للقیم شراء شیئ من مال المسجد لنفسہ و لاالبیع لہ و ان کان فیہ منفعۃ ظاھرۃ للمسجد الخ ( ج 5 ص 23 کتاب الوقف ط:ماجدیہ )۔
و فی الھندیۃ : فما فضل من ذلک یصرف الی عمارۃ المسجد و دھنہ و حصیرہ و ما فیہ مصلحۃ المسجد علی ان للقیم ان یتصرف فی ذلک علی ما یری ( الی قولہ ) قالوا ان وسع الواقف ذلک للقیم و قال تفعل ما تری من مصلحۃ المسجد کان لہ ان یشتری للمسجد ما شاء الخ ( ج2 ص 461/462 ) ۔
و فیھا ایضاً : متولی المسجد لیس لہ ان یحمل سراج المسجد الی بیتہ و لہ ان یحملہ من البیت الی المسجد کذا فی فتاوی قاضیخان ( الی قولہ ) و اذا اراد ان یصرف شیئا من ذلک الی امام المسجد او الی مؤذن المسجد فلیس لہ ذلک الّا ان کان الواقف شرط ذلک فی الوقف کذا فی الذخیرۃ و لو شرط الواقف فی الوقف الصرف الی امام المسجد و بین قدرہ یصرف الیہ ان کان فقیرا و ان کان غنیا لا یحل و کذا الوقف علی الفقھاء و المؤذنین کذا فی الخلاصۃ الخ (ج2 ص 463کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد الفصل الثانی ط:ماجدیہ )۔