السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! سوال:ایک مسجد ہے ، جس کے متصل اکھاڑہ ہے ، یہ جس آدمی کی ملکیت میں تھا ، اُس نے پہلوانوں کے لئے وقف کردیا تھا ، اِس وقت یہ پتہ نہیں کہ وقف کرنے والا کہاں ہے ، جب اکھاڑہ میں کشتی ہونی بند ہوگئی ، تو وہاں مکتب شروع کردیا گیا ، اور مسجد کی ضروریات میں وہ جگہ استعمال کی جانے لگی ، کچھ حضرات کہتے ہیں کہ ایک وقف کو دوسرے وقف میں ملایا جاسکتا ہے ، لہذا مسجد کے ذمہ داروں نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس اکھاڑہ کی جگہ کو مسجد کی حد میں شامل کرلیا جائے ، شریعت کی روشنی میں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ کسی مسلمان کے وقف کی صحت و درستگی کے لئے ضروری ہے کہ وہ وقف کسی ایسے کام کے لئے ہو ، جو مسلمانوں کے ہاں باعثِ ثواب اور قربت کا ذریعہ ہو اور کُشتی چونکہ قربت اور ثواب کا ذریعہ نہیں ، اس لئے مذکور شخص کا اکھاڑہ کے لئے زمین وقف کرنے سے یہ وقف درست نہ ہوا ، بلکہ یہ جگہ بدستور واقف کی ملکیت ہے ، اور اس کے انتقال کے بعد ورثاء کی ملکیت ہوگی ، لہٰذا اگر واقف موجود ہو تو اس سے یا اس کی عدم موجودگی و انتقال کی صورت میں اس کے ورثاء کی اجازت سے مذکور زمین مکتب و مسجد کے استعمال میں لانا درست ہوگا ، بصورتِ دیگر مذکور زمین مسجد کی حد میں شامل کرنا درست نہ ہوگا ۔
کما فی شرح القواعد الفقھیۃ: لا یجوز لأحد ان یتصرف فی ملک الغیر بلا إذنہ الخ ( القاعدۃ الخامسۃ والتسعون ص 461 ط: دمشق ) ۔
وفی الدرالمختار: ( و شرطہ شرط سائر التبرعات ) کحریۃ و تکلیف ( وأن یکون ) قربۃ فی ذاتہ معلوم الخ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ: وأن یکون قربۃ فی ذاتہ ) أی بأن یکون من حیث النظر الی ذاتہ و صورتہ قربۃ ، و المراد أن یحکم الشرع بانہ لو صدر من مسلم یکون قربۃ حملا علی انہ قصد القربۃ الخ ( کتاب الوقف ج 4 ص 341 ط: سعید ) ۔