السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ کیا محکمۂ اوقاف کی زمین جس کو آباء و اجداد نے وقف کیا تھا اور اب بھی محکمۂ اوقاف والے اس زمین کا سالانہ معاوضہ لیتے ہیں، کیا ایسی زمین وراثت میں تقسیم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو اس کے متعلق بھائی اور بہنوں کے لئے کیا احکامات ہیں؟رہنمائی فرما دی جائے۔
مذکورہ زمین اگر مالک کی طرف سے باقاعدہ وقف کرکے اپنی ملکیت سے علیحدہ کر دی گئی تھی، جس کا محکمۂ اوقاف میں باقاعدہ اندراج بھی ہوا ہے تو یہ زمین وقف ہوچکی ہے،اب واقف(وقف کرنے والے) کی اولاد کا اس زمین کو بطورِ ترکہ اپنے درمیان تقسیم کرنا شرعاً جائز نہیں،بلکہ زمین جس مقصد کیلئے وقف کردی گئی ہے، اسے اس مقصد کیلئے استعمال کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کما فی الدر المختار: هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالىوصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة اھ(4/339)۔
وفی الھندیة: وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية اھ(2/350)۔
وفی فتح القدیر: وعندھا حبس العین علیٰ حکم ملك اللہ تعالیٰ فیزول ملك الواقف عنه الیٰ اللہ تعالیٰ علیٰ وجه تعود منفعته الیٰ العباد فیلزم ولایباع ولایورث ولایوھب اھ(5/242)۔