وقف

میت کمیٹی سے متعلق حکم

فتوی نمبر :
69574
| تاریخ :
2023-12-05
معاملات / امانات / وقف

میت کمیٹی سے متعلق حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مثلاً ایک محلے میں تقریباً سو(100) گھرانے ہیں، فوتگی کے موقع پر میت والوں کیلئے باقی سب یا اکثر حضرات ہمدردی کے طور پر اپنے گھروں سے کھانا لانے کا انتظام کرتے ہیں، کیونکہ ایسے موقع پر تعزیت کیلئے مرد اور عورتیں دور دراز سے تشریف لاتے ہیں، تو اگر یہ سارے حضرات یاا کثر حضرات میت کے گھر میں کھانا لائیں، تو اس طریقے سے کھانا وغیرہ زیادہ آنے کیوجہ سے اسراف اور بے احتیاطی ہوتی ہے، جو کہ شریعت میں صحیح نہیں، اگر باہمی مشورہ کے ساتھ اس بے احتیاطی اور اسراف سے بچنے کیلئے یہ ترتیب وضع کی جائے کہ جو لوگ کھانا لانے کا انتظام کرتے ہیں، ان حضرات کو تین گروپ میں تقسیم کیا جائے اور ہر ایک گروپ ایک ایک دن ترتیب کیساتھ اپنی خوشی سے ”بلا جبر و اکراہ“ اپنے اپنے گھروں سے کھانے کا انتظام کرے، تو اس میں اسراف و بے احتیاطی اور بے ادبی نہ ہوگی، جو حضرات ہمدردی کے ساتھ روٹی کا انتظام کرتے ہیں، وہ یہ مشورہ کریں کہ ہر گھر والا مثلاً ایک ایک ہزار روپے ”بلا جبر و اکراہ“ اکٹھا کر کے اہلِ میت کو دیدیں اور وہ بالترتیب مہمانوں کی تعداد کے مطابق کھانے کا انتظام کریں،تو ان دونوں طریقوں میں سے ایک کو اختیار کرنے سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ بے احتیاطی اور اسراف نہ ہوگا، دوسرا یہ کہ اس میں آسانی ہے، دشواری نہیں ہے۔
اس دوسری صورت میں اگر ایک شخص اپنے آپ کو اپنی مرضی سے کمیٹی سے خارج کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ میں روپے نہیں دیتا بلکہ اپنی خوشی سے اہلِ میت کیلئے کھانا لانے کا انتظام کروں گا، تو اس پرجبر و اکراہ نہ ہوگا، اور وہ خارج ہو سکتا ہے،دوسرا یہ کہ یہ رقم ان حضرات کو ملے گی جنہوں نے رقم دینے کا مشورہ کیا ہے، اور دوسرے حضرات کو اس وجہ سے نہیں ملے گی کہ وہ اپنی خوشی سے کھانا لانے کا انتظام کرتے ہیں،ان مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں سے کون سی صورت صحیح ہے یا دونوں صورتیں صحیح ہیں ؟
ان مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں قابلِ اصلاح باتوں کی طرف آپ کی توجہ دلاتا ہوں۔
(1)کمیٹی والے بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر ایک گھر میں ایک باپ کے تین یا چار شادی شدہ بیٹے ہیں، تو اس کی دو صورتیں ہیں،ایک یہ کہ سارے بیٹے باپ کے ساتھ شریک ہیں یا باپ فوت ہو چکا ہے، چار بھائی شریک ہیں، تو یہ ایک گھر پر حساب ہوگا،وہ صرف ایک ہزار روپے دیں گے،دوسری صورت یہ ہیکہ سارے بیٹے یا بھائی جدا جدا ہیں، تو اس صورت میں ہر ایک بیٹا یا بھائی ایک ایک ہزار روپے دے گا، تو آیا دونوں صورتیں صحیح ہیں یا کونسی صحیح ہے ؟
( 2) اگر کمیٹی والے حضرات مثلاً 100 ہیں، تو ایک ایک ہزار اکٹھا کرنے سے ایک لاکھ روپے بنتے ہیں، اور پھر مشورہ یہ کریں کہ میت والے کو ”ستر یا اسی“(80/70) ہزار دیں گے،اور باقی ” بیس یاتیس ہزار روپے“ فنڈ میں رکھیں تو کیا یہ درست ہے ؟ یا میت والے کو ساری رقم دینی چاہیئے؟
( 3) اگر ان افراد میں سے ایک کے گھر میں مثلاً ایک سال میں چار دفع فوتگیاں ہو جائیں اور باقی افراد میت والے کو ہر فوتگی کے موقع پر کھانے کا انتظام کریں یا رقم دینے کا انتظام کریں، پھر وہ ایک سال بعد دوسرے گاؤں میں منتقل ہو جائے اور اسی سال باقی افراد کے گھروں میں فوتگی نہ ہو جائے، تو بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ”جوا“ہے، کہ ایک فرد کو ایک سال کے اندر چار دفع فوتگی کے موقعہ پر کھانا کھلایا گیا یا رقم دینا مل گیا اور باقی افراد کو نہیں ملا، تو آیا ان حضرات کی یہ بات صحیح ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ تعاون اور تناصر ایک مستحسن عمل ہے، جس کی خوبی کسی سے مخفی نہیں، لہذا اگر کسی برادری یا اہل محلہ کے چند افراد مل کر کمیٹی / ٹرسٹ بنائیں اور پھر اس میں جمع شدہ رقم سے شرائط وضوابط کے مطابق مرحومین کی تجہیز و تکفین اور ان کے پسماندگان کے ساتھ ممکنہ تعاون کریں، تو یہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ شرعاً وعرفاً ایک مستحسن عمل ہے، لہٰذا مذکور کمیٹی/ٹرسٹ اگر با قاعدہ وقف فنڈ کی بنیاد پر قائم کی جائے، اس طور پر کہ شروع میں اس کمیٹی کے کچھ ممبران مخصوص رقم وقف کر کے مستقل ایک فنڈ قائم کریں جو کہ کمیٹی کے قائم رہنے تک ( مطلوبہ ) اخراجات کے لیے استعمال نہ ہو، بلکہ وہ رقم محفوظ رہے، اس کے بعد کمیٹی/ٹرسٹ میں شامل ہونے والے افراد باہمی رضامندی سے متعین مقدار میں اس قائم کردہ وقف فنڈ میں رقم جمع کراتے رہیں، جو کہ فقہی لحاظ سے مملوکِ وقف شمار ہو گی، اور اس مملوکِ وقف (چندہ) کو کمیٹی / ٹرسٹ کی شرائط وضوابط کے مطابق مطلوبہ اخراجات میں خرچ کیا جائے، تو مذکور مقصد کے لئے درجِ بالا طریقۂ کار کے مطابق کمیٹی/ٹرسٹ بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في سنن الترمذي : عن ‌عبد الله بن جعفر قال : لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه و سلم : اصنعوا لأهل جعفر طعاما ، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم . هذا حديث حسن .(2/312) .
و فی السنن الكبرى البيهقي : عن أبي حرة الرقاشي ، عن عمه ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :" لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه "(6/166)۔
و في مرقاة المفاتيح : (و عن عبد الله بن جعفر) أي : ابن أبي طالب. (قال : لما جاء نعي جعفر) (الی قوله) (قال النبي صلى الله عليه و سلم أي : لأهل بيت النبوة . (اصنعوا لآل جعفر طعاما) (الی قوله) و المعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم ، فيحصل لهم الضرر و هم لا يشعرون . قال الطيبي : دل على أنه يستحب للأقارب و الجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. و المراد طعام يشبعهم يومهم و ليلتهم ، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء ، أو لفرط جزع ، و اصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ; لأنه إعانة على المعصية ، و اصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة ، بل صح عن جرير رضي الله عنه : كنا نعده من النياحة ، و هو ظاهر في التحريم . قال الغزالي : و يكره الأكل منه ، قلت : و هذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب ، و إلا فهو حرام بلا خلاف . (رواه الترمذي) و قال : حسن صحيح نقله ميرك . (و أبو داود ، و ابن ماجه) قال ميرك : رواه النسائي . (3/1241).
و فی ردالمحتار : (قوله و باتخاذ طعام لهم) قال في الفتح و يستحب لجيران أهل الميت و الأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم و ليلتهم ، لقوله - صلى الله عليه و سلم -”اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم“ حسنه الترمذي و صححه الحاكم و لأنه بر و معروف ، و يلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون . اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت ۔اھ(2/240)۔
و فیه ایضاً : و لما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية و غيرها في وقف الدراهم و الدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى ؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز و قفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري و الله تعالى أعلم ، و قد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها و لم يحك خلافا . اهـ. ما في المنح قال الرملي : لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف ، و إفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل ؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر و أفتى به و ما استدل به في المنح من مسألة البقرة الآتية ممنوع بما قلنا إذ ينتفع بلبنها و سمنها مع بقاء عينها لكن إذا حكم به حاكم ارتفع الخلاف اهـ ملخصا .(4/363)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69574کی تصدیق کریں
0     1865
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مکان وقف کرنے کی صورت میں پڑوسی شفعہ کرسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • مسجد کا پانی گھر میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   وقف 3
  • مرحوم کے وقف کرنے کے بعد ورثاء کاموقوفہ زمین پر قبضہ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • اہلِ میت کے لیے کمیٹی کی شکل میں کھانے پینے کا انتظام کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • واقف کا مقرر کردہ متولی اور مہتمم کو تبدیل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   وقف 2
  • محکمہ اوقاف کو دی ہوئی زمین میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد کی وقف جگہ میں خرید و فروخت کے لئے اسٹال لگانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ٹرسٹ کو کون کون سی مد کی رقم دے سکتے ہیں

    یونیکوڈ   وقف 0
  • زانی شخص کے بنائے ہوئے مسجد میں نماز پڑھنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • عیدگاہ کی جگہ پر مدرسہ بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • بے اولاد خاتون کا اپنا مکان ٹرسٹ کو دینے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد بننے کے بعد اسے فروخت کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد کی رقم کاوربار میں لگانا

    یونیکوڈ   وقف 1
  • مدرسے کی وقف زمین کو فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ایک مسجد کے غیر آباد ہونے کے بعد اس کی اشیاء کو دوسری نئی مسجد میں صرف کرنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • عیدگاہ کے لیے وقف شدہ زمین میں اسی سال بعد پوتے کے لئے وراثت کا دعویٰ کرنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • اکھاڑہ کے لئے وقف کی گئی زمین کو مسجد کا حصہ بنانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ایک مسجد کا چندہ دوسری مسجد میں خرچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • میت کمیٹی سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • قبرستان سے سبز گھاس کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مدرسہ سے لیا گیا قرض واپس ادا کرنے کیلئے مدرسہ پر زمین فروخت کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مہتمم کا مدرسہ کی رقم اور اشیاء ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • موقوفہ مسجد منہدم کرکے پارک بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • کیا بلڈنگ کے نیچے مسجد بنانا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   وقف 1
  • مسجد کی بجلی سے موبائل ری چارج کرکے باکس میں کچھ رقم ڈالنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
Related Topics متعلقه موضوعات