السلام علیکم !
کچھ دنیا پرست لوگ یہ کام کرنا چاہتے ہیں،یہاں پر پہلے مسجد تھی ، نماز اور نمازِ جنازہ ہوا کرتی تھی،یہ جگہ مسجد کے لئے خریدی گئی تھی اور اب مسجد کے لئے دوسری جگہ لے لی گئی ہے،پرانی جگہ اب خالی پڑی ہے،اب کچھ لوگ جو کبھی مسجد میں عید کی نماز پڑھنے بھی نہیں گئے،وہ وہاں پر بچوں کو سیدھے راستے پر چلانے کے لئے پارک بنانا چاہتے ہیں اور اس جگہ پر ہر ایک کو آنے جانے کی اجازت ہوگی،غیر مسلم کو بھی،براہِ کرم مجھے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا تفصیلی جواب یا اس کا تفصیلی حکم جس کتاب میں ہو،ایسی کتاب کا نام بتائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور زمین مسجد کے لئے خرید کر اس پر جب باضابطہ مسجد بنا کر نماز وغیرہ بھی قائم ہوگئی تھی تو یہ جگہ قیامت تک کے لئے مسجدِ شرعی کے حکم میں ہوگئی ہے، اب اسے منہدم کرکے وہاں پارک وغیرہ بنانا بلاشبہ ناجائز وحرام اور عذابِ خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے،ہاں اگر مسجد کی متعلقہ آبادی کے وہاں سے منتقل ہوجانے وغیرہ کی بناء پر اس مسجد کی آبادی بظاہر مشکل ہو تو اس جگہ کی چار دیواری کرکے اسے بند کردینا لازم ہے، تاکہ یہ جگہ مزید خراب اور نجس وناپاک ہونے سے محفوظ رہ سکے ۔
کمافی الشامیة: قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي وأکثر المشایخ علیه، مجتبی وھو الأوجه فتح اھ(4/358)۔