میں ایک فلاحی ادارہ چلا رہاہوں۔ اس ٹرسٹ سے میں سکولوں اور دینی مدارس کے طلبا کرام کے لئے یونیفارم اور سٹیشنری مہیا کرتا ہوں،اس ٹرسٹ کے لئے مجھے لوگ کس قسم کے پیسے دے سکتے ہیں مثلاً اسقاط، زکوٰاۃ، فطرانہ، خیرات، صدقہ اور نظرانہ وغیرہ وغیرہ؟
کسی بھی رفاہی ادارے میں کوئی بھی رقم بطورصدقہ اور خیرات دی جاسکتی ہے، لیکن اس رقم کو وصول کرنے کے بعد اصل مصرف میں اسے خرچ کرنا اس ادارے کے منتظمین کی ذمہ داری ہوتی ہے، لہذا اگر سائل اس ٹرسٹ کے توسط سے ایسے ضرورمند لوگوں کی بھی تعاون کرتاہوں، جو غیرسید اور مستحق زکوۃ ہوں، تو ایسی صورت میں اس کےلیے نفلی صدقات اور خیرات کے علاوہ صدقات واجبہ جیسے زکوۃ، فطرانہ اور نذر کی رقم وصول کرنا بھی جائز ہے، لیکن صدقات واجبہ کی یہ رقم ٹرسٹ کے کسی انتظامی امورمیں خرچ کرنا جائز نہ ہوگا، بلکہ اسے براہ راست یا اس کے ذریعہ خریدے گئے سامان کو مستحق زکوۃ لوگوں تک پہنچانا لازم ہوگا۔ ورنہ لوگوں کی زکوۃ اور صدقات واجبہ کی ادائیگی درست نہ ہوگی۔
فی الفتاوى الهندية:
إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جازكذا في الجوهرة النيرة اھ(1/ 171)۔