کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد کی ایک کمیٹی ہے ،مسجد کی تعمیر کے لئے ایک ممبر کومسجدکے تعمیر کی رقم جو اس مسجد کاکمیٹی ممبراور جرنل سیکرٹری بھی ہے، کے پاس جمع ہوتی ہے، کیا وہ ممبرجو اس مسجد کا ممبراور جرنل سیکرٹری ہے، یہ چندے کی رقم اپنے ذاتی کاروبار میں استعمال کرسکتا ہے،جبکہ مذکور ممبر جو کہ اس مسجد کا جنرل سیکرٹری بھی ہے، اس نے یہ کہہ کر رقم اپنے پاس رکھی تھی کہ یہ رقم میں اپنے اس بنک اکاؤنٹ میں رکھ
لیتا ہو ں جو کہ کسی بھی استعمال میں نہیں ہے اور میں ان کو اپنے ذاتی کاروباری استعمال میں نہیں لاؤں گا اور اس کا اس نے حلف بھی دیا تھا ،اب کافی عرصہ کے بعدجب مسجد کمیٹی کو پتہ چلا کہ یہ ممبر جو مسجد کا ممبراور جنرل سیکرٹری بھی ہے، وہ اس رقم کو اپنے ذاتی اور کاروباری استعمال میں لایا ہے، جب مسجد کمیٹی نے اس سے پوچھا کی یہ رقم آپ نے اپنے کاروبار میں کیوں لگائی ہے تو وہ کہتا ہے کہ جی میرے دو تین اور دوسرے بنک اکاؤنٹ میں رقم ہے میں اس میں سے ادا کر دوں گا ،کیا وہ ممبراور جنرل سیکرٹری یہ چندہ اپنے ذاتی یا کاروباری استعمال میں لا سکتا ہے اور بعد میں وہ بندہ یہ چندہ کی رقم جو اس بندے نے استعمال کی تھی واپس اس چندہ والی رقم میں رکھ دے، کیا یہ عمل اس بندے کے لئے جائز ہے کہ نہیں؟ آپ سے گزارش ہے کہ جواب جلد دیں کیوں کہ مسجد کمیٹی نےآ ئندہ اجلاس جو کہ ستمبر کی 3 تاریخ کو ہے اس میں اس مسئلہ پر بات چیت کرنی ہے ،آپ سے دعا کی درخواست ہے۔
العارض انتظامیہ مکی جامع مسجد
واضح ہو کہ مسجد کے چندے کی رقم متولیِ مسجد اور منتظمہ کمیٹی کے پاس امانت ہوتی ہے،کمیٹی کے کسی ممبر کے لئے اس رقم کو مصالح اور ضروریاتِ مسجد کے علاوہ اپنے ذاتی ضروریات اور کاروباری مقاصد میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا ، لہذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو مذکور کمیٹی ممبر(جنرل سیکرٹری) کا مسجد کی فنڈ کو اپنے ذاتی کاروبار کے لئے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں تھا ،جس پر اسے توبہ و استعفار اور مسجد کی رقم امانت دار و دیانت دار متولیان کے حوالے کرکے آئندہ کےلئے اس طرح کے عمل سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔
کمافی الفتاوی الھندیۃ: وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني،الوديعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر ولاترهن، وإن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق. (338/4)۔
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وفي القنية ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجد(الی قولہ) أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز.۔(239/5)۔
وفی مجلة الأحكام العدلية: منافع الوديعة لصاحبها. يعني أن المنافع المتولدة من الوديعة تكون لصاحبها ; لأن المنافع المذكورة نماء ملك صاحبها يعني المودع. فلذلك نتاج حيوان الأمانة ولبنه وصوفه عائد لصاحبه." (المادة :798)۔