اگر عام لوگوں کے لیے زمین مدرسہ کے لیے خریدی گئی پھر اسے ٹرسٹ کی طرف منتقل کر دیا گیا تو کیا اب ٹرسٹ کی جانب سے اس زمین کو کسی دوسرے شخص کو کاروبار کی غرض سے بیچا جا سکتا ہے؟
صورت مسئولہ میں مذکور زمین اگر مدرسہ کے لیے بطورِ وقف خریدی گئی تھی تو اب اس زمین کو ٹرسٹ والوں کی طرف سے کاروبار کی غرض سے بیچنا شرعاً جائز نہیں، یہ زمین صرف مدرسہ کے مصارف ہی میں استعمال کی جا سکتی ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية وإنما يزول ملك الواقف عن الوقف عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - (2/ 350)
وفی حاشية ابن عابدين: ومن اختلاف الجهة ما إذا كان الوقف منزلين أحدهما للسكنى والآخر للاستغلال فلا يصرف أحدهما للآخر وهي واقعة الفتوى. اهـ. (4/361)