میرے بچے کی پیدائش اس ہفتہ متوقع ہے، میرا سوال یہ ہے کہ اس کی پیدائش کے فوراً بعد کیا چیزیں کرنی چاہئیں؟
سائل کے لیے بچے کی ولادت کے بعد مستحب طریقہ یہ ہے کہ بچے کو صاف کرکے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کے الفاظ کہے اور اس کے دائیں کان میں یہ آیت بھی پڑھے: ’’ِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ اور کسی بزرگ اللہ والے سے اس کی تحنیک (اس کو کوئی میٹھی چیز چٹاکر) کرائے اور اس کا اچھا سا نام رکھے اور پھر ساتویں دن اس کے سر کے بالوں کو کاٹ کر اس کے وزن کے بقدر چاندی صدقہ کرے اور اس کی طرف سے عقیقہ کرے۔
کما فی الفقہ الإسلامی: ویستحب للوالد أن یؤذن فی أذن المولود الیمنٰی، وتقام الصلاة فی الیسریٰ حین یولد۔۔۔۔ ویسنّ أن یقول فی أذن الیمنی: ’’إنی أعیذھابک وذریتھا من الشیطٰن الرجیم‘‘ ویقول ذلک، ولو کان المولود ذکرًا۔۔ ویسنّ أن یحنّک المولود بمثرة، بأن تھضغ، ویدخل بھا داخل فمہ، ویفتح فمہ، حتی ینزل إلی جوفہ منھا شیئ، فان لم یکن فیحنّکہ بحلَو۔۔۔۔ ویستحب حلق رأس المولود فی الیوم السابع من ولادتہ، وأن یسمٰی فیہ، بعد ذبح العقیقہ، ویتصدق بوزن شعرہ ذھبًا أو فضةً۔ الخ (ج٣، ص٦٤٠) واللہ اعلم