میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے صبح جاگنے کے بعد جس کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا کبھی جلدی کبھی دیر سے حتی کہ کبھی کبھی دو گھنٹے کے بعد جب عضو خاص سکڑتاہے تو منی کے ایک دو ، تین قطرے خارج ہوجاتے ہیں (بلا اختیار کافی عرصہ سے ہیں) نیز ہر دفعہ پاخانہ اور پیشاب کے بعد قطرے کچھ دیر تک خارج ہوتے ہیں یہ بھی کافی دیر تک خارج ہوتے رہتے ہیں تقریباً پندرہ سے بیس منٹ تک (یہ بھی مسلسل کافی عرصہ سے ہیں) تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ ان مسائل کی وجہ سے اکثر وضو کے بارے میں شک میں رہتاہوں اور سخت پریشان ہوں ۔
برائے مہربانی جلد سے جلد تفصیل سےا ٓگارہ فرمائیں؟
سوال میں مذکور قطروں کے نکلنے سے (جبکہ وہ بغیر شہوت کے نکلتے ہوں) غسل واجب نہیں ہوتا۔ تاہم ان سے اور پیشاب کے قطروں کے خروج سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اس لیے وضو کرنا اور جس حصہ بدن یا کپڑے پر یہ قطرے لگے ہوں اس کا دھونا ضروری ہے۔
جبکہ ان قطروں سے نجات کیلئے کسی ماہر معالج سے رابطہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
فی الهندیة: منها الجنابة وهی تثبت بسببین احدهما خروج المنی علی وجه الدفق والشهوة من غیر ایلاج باللمس او النظر اھ (۱/ ۱۴)
وفی الهدایة: المعانی الناقضة للوضوء کل ما یخرج من السبیلین لقوله تعالٰی: ﴿وجاء احدٌ منکم من الغآئط﴾ وقیل لرسول اللہﷺ وما الحدث قال ما یخرج من السبیلین. (۱/۲۲)
وفی الدر: اما لو غسل فی غدیر او صب علیه ماء کثیر او جرٰی علیه الماء طهر مطلقًا بلا شرط عصر وتجفیف وتکرار غمس هوالمختار. (۱. ۳۳۳) واللہ اعلم!