۱۔اگر کوئی شخص مصلے پر ظہر کی چار رکعت سنت پڑھ رہا ہو ،اور کوئی جماعت آ کر جماعت کرانا شروع کر دے ، تو کیا ہمیں نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہونا چاہیۓ یا سنت مکمل کر کے شامل ہوں ؟
۲۔اسی طرح اگر کوئی انفرادی طور پر مصلے پر فرض پڑھ رہا ہو اور کوئی جماعت آکر جماعت کرانے لگے تو کیا ہم اپنی نماز مکمل کریں یا نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہو جائیں ؟
پہلی صورت میں سجدہ سے پہلے پہلے اگر جماعت کھڑی ہوگئی ، تو نماز توڑ ہ کے ، جماعت میں شامل ہونا جائز ہے اور اگر پہلی رکعت پڑھ چکے ہوں تو دو رکعت پر سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہوا جا سکتا ہے اور ایسا ہی کرنا چاہیۓ ، جبکہ دوسری صورت میں اگر فجر اور مغرب کی نماز ہو تو فوراً شامل ہوا جاسکتا ہے اور بقیہ نمازوں میں پہلی والی ترتیب اختیار کی جاسکتی ہے ۔
في حاشية ابن عابدين : حاصل هذه المسألة : شرع في فرض فأقيم قبل أن يسجد للأولى قطع و اقتدى، فإن سجد لها ، فإن في رباعي أتم شفعا و اقتدى ما لم يسجد للثالثة اھ (2/ 52)۔
و فی الدر المختار : (و الشارع في نفل لا يقطع مطلقا) و يتمه ركعتين (و كذا سنة الظهر) اھ (2/ 53)۔