السلام علیکم! ہم کراچی سٹی سے باہر ایک اکیڈمک انسیٹیوٹ میں کام کر رہے ہیں، وہاں تقریباً ۱۶۰۰ طلبہ اور اسٹاف ممبرز صبح آٹھ بجے سے شام ۳:۳۰ بجے تک حاضر ہوتے ہیں ، مسجد وہاں سے دور ہے اور مسجد کی جماعت کا وقت بھی ہمارے وقفہ کے بعد ہوتا ہے ، ہمارے پاس تین سو آدمیوں کی جماعت کی جگہ بلڈنگ میں ہے ، نماز کا وقت بھی متعین ہے ،لیکن بہت سارے طلبہ اور اسٹاف ممبرز وہاں بھی نمازِ ظہر کی جماعت کو چھوڑ دیتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ جگہ تنگ ہے اس وجہ سے کئی طلبہ اور اسٹاف ممبرز اپنی ظہر کی نماز کو بھی چھوڑ دیتے ہیں، ان کے لۓ ایک نئی جگہ کی درخواست کی گئی ہے ، لیکن وہ زیادہ وقت لے گا ، اگر ہم تین یا چار جماعت ظہر کے وقت میں کرائیں تو اس طرح کرنے سے ہر ایک جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے ، بعض اسٹاف ممبرز کہتے ہیں کہ صرف ایک جماعت کی جائے خواہ لوگوں کی نماز اور جماعت چھوٹ جائے ، جب تک نئی جگہ تعمیر نہ ہو جائے ، چونکہ متعدد جماعتیں جائز نہیں ، برائے مہربانی ہماری راہ نمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور مجبوری کی بناء پر مذکور جائے نماز میں تکرارِ جماعت کی گنجائش ہے، تاہم دوسری جگہ کا جلد ہی انتظام کیا جائے اور جب دوسری جگہ کا انتظام ہوجاۓ تو ایک ہی جماعت سے سب لوگ نماز پڑھنے کا اہتمام کریں۔
في حاشية ابن عابدين : يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة بأذان و إقامة ، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله ، او أهله لكن بمخافتة الأذان ، و لو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا ؛ كما في مسجد ليس له إمام و لا مؤذن و يصلي الناس فيه فوجا فوجا ، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان و إقامة على حدة اھ (1/ 553)۔
و في الفقه الإسلامي و أدلته : يكره تكرار الجماعة بأذان و إقامة في مسجد محلة، إلا إذا صلى بهما فيه أولاً غير أهله ، أو أهله لكن بمخافته الأذان ، أو كرر أهله الجماعة بدون الأذان و الإقامة ، أو كان مسجد طريق ، أو مسجداً لا إمام له و لا مؤذن ، و يصلي الناس فيه فوجاً فوجاً ، و الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان و إقامة على حدة اھ (2/ 1182)۔
و في الدر المختار : ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن الخ(ج 1 ص 525)۔