ایک آدمی مرچکا ہے اس سے معافی کس طرح مانگی جائے؟
مرحوم کے ساتھ اگر زندگی میں زیادتی ہوچکی تھی، اب متعلقہ شخص کو اس کے انتقال کے بعد احساس ہوا ہو تو اس کی تلافی کا طریقہ اس کے لئے دعاءِ مغفرت کرنا اور خود توبہ واستغفار کرنا ہے، اگر مالی طور پر اس کا حق مارا ہو اور اس کے ورثاء معلوم ہوں تو ان تک ان کا حق پہنچانا لازم ہے، ورنہ مرنے والے کی طرف سے اس کا صدقہ کرے اور توبہ واستغفار کرے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: في " شرح السنة " روى عنه موقوفا. قال: " الندم توبة، والتائب كمن لا ذنب له ".
وفیھا ایضاً: تحت وقولہ(قال: الندم توبة) أي: ركن أعظمها الندامة، إذ يترتب عليها بقية الأركان من القلع والعزم على عدم العود، وتدارك الحقوق ما أمكن الخ (ج4 صـ1636-1637 ط: دار الفکر)۔
وفی شرح الفقہ الاکبر: وان کانت عما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال، فتتوقف صحۃ التوبۃ منھا (الی قولہ) اویردھا الیھم او الی من یقوم مقامھم من وکیل او وارث الخ (صـ158)۔
وفی رد المحتار: بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها الخ (ج2 صـ243 مطلب فی زیارۃ القبور ط: دار الفکر)۔