وضو

دورانِ حج اسپرے یا گیلےتولیہ سے وضو کرنے سے وضو درست ہوگا؟

فتوی نمبر :
22571
| تاریخ :
2014-09-02
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

دورانِ حج اسپرے یا گیلےتولیہ سے وضو کرنے سے وضو درست ہوگا؟

میراحج پر جانے کا ارادہ ہے، مجھے بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا ہے کہ حرم میں وضو کے لیےاور اسی طرح منی، مزدلفہ میں وضو کے لیے اسپرے بوتل استعمال کریں، کیا اسپرے بوتل سے وضو جائز ہے؟ تولیہ گیلا کر کے اس سے وضو کیا جائے تو کیا وضو ہو جائے گا ؟ اگر کسی کو شک ہو کہ مجھ پر جادو ہے تو کیسے پتہ چلے گا کہ جادو ہےکہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسپرے سے وضو کی صورت میں اگر اعضاء سے پانی ٹپکنے لگے تو وضو ہو جاتا ہے، جبکہ محض تولیہ گیلا کر کے اعضاء پر پھیرنے سے وضو نہیں ہوتا ،جادو معلوم ہونے کا کوئی یقینی ذریعہ نہیں اس لیےاس کے پیچھے لگنے کی بجائے جادو سے بچاؤ کی ادعیہ وغیرہ کا اہتمام چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الہندیة: (الفصل الأول: في فرائض الوضو) قال الله تبارك وتعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم وأيديكم إلى المرافق وامسحوا برءوسكم وأرجلكم إلى الكعبين} [المائدة: 6] (وهي أربع) . الأول: غسل الوجه الغسل: هو الإسالة والمسح هو الإصابة. كذا في الهداية وفي شرح الطحاوي أن تسیل الماء شرط في الوضو في ظاهر الرواية فلا يجوز الوضو ما لم يتقاطر الماء اھ (1/ 3)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 22571کی تصدیق کریں
0     1734
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات