امامت و جماعت

قاری کا حلیہ خلافِ شرع ہے اور دوسرا آدمی باشرع ہے مگر قراءت ٹھیک نہیں تو کون نماز پڑھائے ؟

فتوی نمبر :
22534
| تاریخ :
2015-08-18
عبادات / نماز / امامت و جماعت

قاری کا حلیہ خلافِ شرع ہے اور دوسرا آدمی باشرع ہے مگر قراءت ٹھیک نہیں تو کون نماز پڑھائے ؟

اگر قاری کی داڑھی سنت مقدار سے کم ہو اور دوسرا آدمی سنت کے مطابق ہو مگر قراءت ٹھیک نہ ہو تو کون نماز پڑھائے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو شخص نیک صالح ہونے کیساتھ" ما تجوز بہ الصلاۃ "قراءت پر قادر اور احکامِ نماز سے واقف ہو تو فاسق قاری سے اس کا امام بنانا بہتر ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

في البحر الرائق : و قيدہ المصنف في الكافي بان يكون حافظاً قدر ما تجوز به الصلاة اھ (۳۲۶/۱)۔
و فيه ايضاً : و كره امامة العبد و الاعرابي و الفاسق و المبتدع و الاعمی و ولد الزنی اھ (۳۴۸/۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتى حسین احمد خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22534کی تصدیق کریں
0     366
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات