اگر کوئی شخص رفعِ حاجت سے فراغت کے بعد بیت الخلاء میں ہی اپنے ہاتھوں کو غلاظت صاف کرنے والے پانی کے پائپ سے دھولیتا ہے، بیت الخلاء سے باہر آکر صابن سے اس لیے نہیں دھوتا کہ اس کے گمان کے مطابق اصل غلاظت دھل چکی ہے، ہاتھ چونکہ پاک ہوچکے ہیں، اس لیے اب ہاتھوں کو مزید دھونے کیلیے صابن کے استعمال کی ضرورت نہیں، جبکہ ان ہاتھوں پر گندے جراثیم موجود رہتے ہیں جب تک صابن سے اچھی طرح ہاتھ نہ دھوئے جائیں جراثیم ختم نہیں ہوتے اور یہی گندے ہاتھ جب برتنوں اور کھانے والی چیزوں کو لگیں گے تو وہ چیزیں بھی جراثیم آلود ہوجائیں گی جن کے استعمال سے طرح طرح کی بیماریاں لگنے کے خطرات پیدا ہوں گے اور اس دانستہ طور پر خود کو تکلیف میں مبتلا کرنے کا سبب ہم خود ہی بنیں گے تو اس طرح جو شخص دانستہ طور پر خود کو تکلیف میں مبتلا کرنے والا عمل کرے ایسے شخص کے متعلق کیا حکم شرعی ہوگا؟
بیت الخلاء کے نل سے ہاتھ اچھی طرح صاف کرنے سے ہاتھ صاف ہوجاتے ہیں صابن سے دھونا ضروری نہیں، بلاوجہ شکوک و شبہات میں نہیں پڑنا چاہیے تاہم اگر صابن سے دھولیے جائیں تو اس میں حرج نہیں۔
ففی المشكوٰة: عن ابی هریرة قال كان النبی ﷺ اذا اتی الخلاء اتیته بماء فی تورا وركوة فاستنجی ثم مسح یده علی الارض ثم اتیته باناء اٰخر فتوضأ. رواه ابو داؤد وروی الدارمی والنسائی معناه اھ (1/44)