السلام علیکم! ہمارے ہاں ایک مولوی صاحب نے نمازِ جنازہ کے موقع پر فرمایا کہ، نمازِ جنازہ پڑھتے وقت جوتے نکال کر پاؤں جوتےکے اوپر نہیں رکھنے چاہیئے؟ کیونکہ ممکن ہے کہ جوتے کے اوپر نجاست لگی ہو ،اور آپ کا پاؤں نجاست کے اوپر رہے، اس صورت میں بہتر ہے کہ جوتا پہن کے نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے، کیونکہ جوتے کے اندر تو نجاست نہیں ہو سکتی، اس صورت میں کم سے کم آپ کا پاؤں نجاست کے اوپر تو نہیں ہوگا؟ ازراہِ کرم مسئلہ کی وضاحت فرما دیں۔
مستعمل جوتے یا چپل کے نیچے عموماً نجاست لگتی ہے، اس لیے اس کو پہن کر نمازِ جنازہ پڑھنے کے بجائے ، اس کو اتار کر نمازِ جنازہ پڑھنی چاہیئے ، اور اس صورت میں اگر جوتا اتار کر اس کے اوپر کھڑے ہوں ، تو یہ صحتِ نمازِ جنازہ سے مانع بھی نہیں۔
في البحر الرائق: ولو افترش نعليه وقام عليهما جازت، وبهذا يعلم ما يفعل في زماننا من القيام على النعلين في صلاة الجنازة لكن لا بد من طهارة النعلين اھ (2/ 193)