پیشاب کرنے کے بعد جب میں بیٹھتا ہوں یا چھینک آتی ہے یا رکوع اور سجدہ کرتا ہو تو مجھ کو ایسامحسوس ہوتا ہے کہ کوئی قطرہ نکل گیا ہے؟ بعض اوقات نماز نہیں پڑھتا اور کبھی پڑھ بھی لیتا ہو ،لیکن میرے ذہن میں خیال آتے ہیں کہ آیا نماز ہوگی یا نہیں تو اس صورت میں نماز پڑھوں یا نہیں؟
محض وسوسہ کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس لیے بلاوجہ اس سلسلہ میں پریشان ہونے اور نماز چھوڑنے کی ضرورت نہیں، جبکہ پیشاب کے بعد واقعی قطرے آنے کی امید ہو تو سائل کو چاہیے کہ اتنی دیر انتظار کرے کہ قطرے آنا بند ہو جائیں، اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھا کرے اور اس کے بعد نماز کی صحت میں بلا وجہ شبہ نہ کرے، البتہ واقعی قطروں کا آنا معلوم ہو تو دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھنا لازم ہوگا ۔
في شرح الاشباه والنظائر: رأى البلة بعد الوضوء سائلا من ذكره يعيد، وإن كان يعرضه كثيرا، ولا يعلم أنه بول أوماء لا يلتفت إليه، وينضح فرحه وإزاره بالماء قطعا للوسوسة، واذا ابعد عهده عن الوضوء، أو على أنه بول لا تنفعه الحيلة انتهى (۱/ ۱۸۸)