اگر دونوں میاں بیوی طلاق کے کاغذات پر دستخط کردیں اور اپنے منہ سے کچھ نہ کہا ہو ،اور بعد میں ان کو پچھتاوا بھی ہورہا ہو تو ایسی صورت میں طلاق لاگو ہوگئی ؟یا کوئی صورت نکل سکتی ہے اب بھی؟
تین طلاقوں کے کاغذات کو پڑھ کر میاں بیوی نے اس پر بخوشی دستخط کئے ہوں تو اس سے بھی شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
وفي الهداية وان كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها او يموت عنها والاصل فيه قوله تعالى : فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره والمراد الطلقة الثلاثة (2/399) واللہ اعلم بالصواب