وضو

خروج ریح کا شک ہوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ؟

فتوی نمبر :
20477
| تاریخ :
2013-09-19
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

خروج ریح کا شک ہوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ؟

میرا سوال یہ ہے کہ اگر پیچھے کے راستے سے ریح خارج نہ ہو اور صرف ایسا محسوس ہو کہ ایک بلبلہ سا نکلا ہے،جس سے وضو ٹوٹنے میں شک ہوجائے،کیونکہ وہ بہت ہی معمولی ہو جس کا ریح ہونے میں ہی شک ہو ، جس طرح ہوا خارج ہوتی ہے اسی طرح نہ ہو، تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز بھی ؟ اس طرح ہونے کی صورت میں کوئی وضو ٹوٹنے کا معیار ہو تو عرض کردیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب تک ریح خارج ہونے کی آواز ، بو یا خروجِ ریح کے احساس کے ذریعہ یقین نہ ہو جائے تو محض شک کی بناء پر وضو نہیں ٹوٹتا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: حتى لو خرج ريح من الدبر وهو يعلم أنه لم يكن من الأعلى فهو اختلاع فلا ينقض الخ
وفی رد المحتار: (قوله: وهو يعلم) أي يظن لأن الظن كاف في هذا الباب ح أي الظن الغالب (الیٰ قوله) وفي المنح عن الخلاصة: مناط النقض العلم بكونه من الأعلى فلا نقض مع الاشتباه، وهو موافق للفقه والحديث الصحيح «حتى يسمع صوتا أو يشم ريحا» وبه يعلم أنه من الأعلى اھ (1/136)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 20477کی تصدیق کریں
0     734
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات