کیا میزان بینک کے سیونگ (بچت کھاتوں میں) اپنی رقم رکھنا شرعی لحاظ جائز ہے ؟کیا میزان بنک کے تمام سیونگ اکاونٹ سودی کاروبار سے پاک ہیں؟
ان بینکوں سے متعلق اگر چہ اہلِ علم کی آراء مختلف ہیں ،مگر ہماری معلومات کے مطابق ان بینکوں کے فکسڈ ڈیپازٹ میں مضاربہ و مشارکہ اور مرابحہ شرعیہ کی بنیاد پر ٹرانزیکشن ہوتی ہے، جس کی بناء پر ان بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہے ،اور ان کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والا منافع کو بھی سود نہیں کہا جا سکتا، البتہ اگر کسی معاملہ میں واقعۃً کو تا ہی محسوس ہو رہی ہے ،جیسا کہ اس میں کام کرنے والوں کے عمل سے محسوس ہوتا ہے ،تو اس کی نشاندہی کر کے اور پوری وضاحت کے ساتھ سوال لکھ کر اس کے متعلق حکمِ شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0