زید نے جھگڑے کے وقت اپنے سسر سے کہا کہ" اپنی بیٹی کا سامان میرے گھر سے لے جاؤ " کیا اس کہنے سے طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟
صرف مذکور الفاظ کہ ”اپنی بیٹی کا سامان میرےگھر سے لے جاؤ “کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔
کمافی ردالمحتار: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ (الی قوله)وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه اھ(3/230)-
وفی الھندیة:(وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي اھ(1/348)-