میں نے اپنی بیوی کو فون پر ایک طلاق دی لیکن میری بیوی نے سنا نہیں ، اب میرے لئے کیا حکم ہے ؟ میں نے اللہ تعالی سے توبہ بھی کی ہے. اور میرے منہ سے یہی ایک بار لفظ طلاق نکلا ہے؟
واضح ہو کہ طلاق کا واقع ہونا بیوی کے سننے پر موقوف نہیں ہے، لہذا سائل نے اگر واقعۃً ایک ہی طلاق دی ہو تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے جسکا حکم یہ ہے کہ سائل دورانِ عدت رجوع کر سکتا ہےمگر اس رجوع کے بعد سائل کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار رہے گا۔ اسلئے اس پر لازم ہے کہ آئندہ الفاظِ طلاق کے استعمال میں احتیاط سے کام لے ۔
کمافی الھدایة: " وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض "(2/254)-