میری ایک بہن ہے جس کا دماغی توازن انتہائی درجہ خراب ہے، ڈاکٹر وغیرہ اسے لاعلاج قرار دے چکے ہیں، وہ دورہ پڑنے کی حالت میں اللہ تعالٰی ، رسول ﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں ایسی گندی ، غلیظ اور کفریہ باتیں کرتی ہے، جن کا تصور بھی ناممکن ہے، آپ بتائیے کہ: 1- ایسے شخص کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟2- جب اسے دورہ پڑے تو ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟
اگر دورہ پڑنے سے واقعی مغلوب العقل ہوجاتی ہو، تو وہ اپنے گستاخانہ کلمات کے استعمال کی وجہ سے معذور ہے، اسے قتل کرنا جائز نہیں، البتہ کسی ماہر معالج سے اس کا علاج کروایا جائے۔
کما فی المشکوۃ: وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يبلغ وعن المعتوه حتى يعقل ". رواه الترمذي وأبو داود (ج2 صـ980 ، ط: المکتب الاسلامی)۔
وفی المرقاۃ : «رفع القلم عن ثلاثة: عن المجنون المغلوب على عقله حتى يبرأ الخ (ج5 صـ2142، ط: دار الفکر)۔
واللہ اعلم بالصواب
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1