السلام علیکم!
میری دکان پر ایک گاہک آتا ہے، اور وہ ایک مشین کی قیمت معلوم کرتا ہے، جس کی قیمت 1000 روپے ہے، پر وہ مجھے کہتا ہے کہ میں یہ مشین قسطوں پر لینا چاہتا ہوں،اب میں اسے کہتا ہوں کہ اگر آپ قسطوں پر یہ لینا چاہتے ہو تو اس کی قیمت 1200 ہو گی، آپ کو 400 روپے ایڈوانس دینے ہونگے ،اور باقی رقم آپ قسطوں میں ادا کریں گے،میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
درجِ ذیل شرائط کے ساتھ ادھار اور قسطوں پر بھی کسی چیز کا لینا شرعاً جائز اور درست ہے:
(1) مجلسِ عقد میں ہی یہ طے ہوا ہو کہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(۲) جتنی قسطیں بھی ہوں وہ متعین کر دی جائیں۔
(۳) کسی قسط کے شارٹ یا مؤخر ہونے کی وجہ سے کوئی جرمانہ مقرر نہ کیا جائے، ورنہ یہ معاملہ شرعاً جائز نہ ہوگا۔
کمافي كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: البيع بالتقسيط بيع بثمن مؤجل يدفع إلى البائع في أقساط متفق عليها اھ (ص: 11)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0