میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں نے کچھ فیملی جھگڑے کی وجہ سے اپنی وائف کو میسج پر یہ لکھ دیا تھاکہ ”میں تمہیں طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں“ اور میری وائف کانام نکاح میں نازیہ ہے اور میں اسے افشاں کہتا تھا اور میسج میں بھی افشاں ہی لکھا تھا اور وہ صرف ایک دھمکی کے طور پر میسج کیا تھا اور اب میری وائف میرے ساتھ نہیں ہے اور وہ یہ کہتی ہیکہ فتوی لیکر آؤ کہ یہ طلاق نہیں ہوئی ہے اور یہ میسج میں نے اپنی ساس اور سالی کو بھی بھیجا تھا ؟
سائل کے مذکور خط کشیدہ الفاظ لکھنے اور پھر میسج کرنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی بھی دوسرے مسلمان مرد سے نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہے ۔
کمافی الھندیة: ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ(1 /378)
وفیھا ایضاً: ولو قال لامرأته ينظر إليها ويشير إليها يا زينب أنت طالق فإذا هي امرأة له أخرى اسمها عمرة يقع الطلاق على عمرة تعتبر الإشارة وتبطل التسمية (1/ 354)
وفیھاایضاً: " وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره اھ (1/ 257)