کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اسٹامپ پیپر پر اپنی بیوی کو تین طلاق لکھ کر دے دئے اوراسٹاپ پیپر پر میاں بیوی دونوں کے دستخط موجود ہیں ،اب یہ طلاق واقع ہو چکی یا نہیں ؟ حالانکہ شوہر کہہ رہا ہے کہ یہ اسٹاپ پیپر اس نے اپنے والد کو دھو کہ دینے کیلئے بنا ئےتھے، اور طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور مجلس واحد میں تین طلاق کتنی شمار ہوتی ہے ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں ۔
ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ میں دی ہوں یا الگ الگ بہر دوصورت قرآن و سنت کی روشنی میں وہ تین ہی شمارہوتی ہیں نہ کہ ایک، لہذا شخص مذکور نے جب باقاعدہ تحریری طور پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں، تو اس سے اس کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کرنا چاہے تو کر سکتی ہے ۔
کمافی صحیح البخاری: وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»(7 /43)۔