اگر کسی نے اپنی بیوی کو ایک بار طلاق دے دی تو طلاق ہوگی یا نہیں۔
ایک بار طلاق دینے سے بیوی پر ایک طلاق واقع ہو چکی ہے جس کا حکم یہ کہ شوہر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے تاہم آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دے دے گا تو تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائیگی جس کے بعد رجوع بھی نہ ہو سکے گا ۔
کمافی الدرالمختار: (وفي أنت الطلاق) أو طلاق (أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا يقع واحدة رجعية إن لم ينو شيئا(3/251)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: إذا أضاف الرجل الطلاق للزوجة بأن قال: أنت طالق، أو طلقتك، وقع الطلاق اتفاقاً.(9/6889)
وفی ردالمحتار: وحاصله أن السنة في الطلاق من وجهين: العدد والوقت؛ فالعدد وهو أن لا يزيد على الواحدة بكلمة واحدة لا فرق فيه بين المدخولة وغيرها اھ(3/231)