اگر شوہر غصے میں غلطی سے اپنی بیوی کو یہ کہدے کہ" تم میری بیوی نہیں ہو "، یا کسی اور کو اپنی بیوی کے بارے میں کہدے کہ" وہ میری بیوی نہیں " تو کیا نکاح ٹوٹ جائیگا ؟ اگر بیوی اپنے شوہر کو مذاق یا غلطی سے یہ کہدے کہ تم میرے بھائی ہو ، تو کیا نکاح ٹوٹ جائیگا ؟
شوہر نے مذکور جملہ کہ" تم میری بیوی نہیں ہو " طلاق کی نیت سے کہا ہو یا مذاکرۂ طلاق میں کہا ہو تو اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو کہ نکاح ختم ہو چکا ہے ،ورنہ کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،لیکن شوہر کو چاہیئے کہ آئندہ اس طرح کے الفاظ بولنے سے احتراز کرے، جبکہ بیوی کا شوہر کو "تم میرے بھائی ہو "کہنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے، تاہم یہ گستاخی اور بے ادبی ضرور ہے اس لئے بیوی کو چاہیئے کہ آئندہ کیلئے اس قسم کے الفاظ شوہر کے متعلق بولنے سے احتراز کرے۔
کما فی الهندية : ولو قال ما انت لى بامرأة أو لست لك بزوج و نوى الطلاق يقع عند ابى حنيفة رحمه الله الخ (1/375) ۔
وفي الفقه الاسلامي:لم يجز اكثر العلماء ظهار المرأة من الرجل تشبيها للظهار بالطلاق ويكون لغواً لاكفارة فيه ( 7/593 ) –
وفيه ايضا : قال الحنفية والحنابلة : لا يقع قضاء الطلاق بالكناية الا بالنية او دلالة الحال على اردة الطلاق (7/381)-