میرا نام ۔۔۔۔ہے۔ 2012-5-10 کو میں نے کال کر کے پوچھا اورآپ کو Email کی کہ مجھے بتایئے کہ یہ طلاق ہوگئی ہے ، کہ میں نے تین مرتبہ اپنی بیوی سے کہا "تم آزاد ہو" میں نے طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے، اور میری بیوی کی دوسری شادی ہے اور میری تیسری شادی ہے جناب مجھے اسپر فتوی چاہیئے میری بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے کہ وہ اسکو طلاق سمجھتی ہے تو آپ سے گزارش ہے کہ میری اس میں مدد کریں کہ اسلام میں یہ طلاق کیسے ہوئی جبکہ قرآن میں تو کچھ اور بتایا گیا ہے آپ نے مجھے جواب میں کہا ہے کہ طلاق ہوگئی ہے ،آپکے جواب کا طلب گار ہوگا ۔
مذکور خط کشیدہ الفاظ طلاق کے معنی میں صریح ہیں لہذا تین بار مذکور الفاظ بولنے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظ ثابت ہو چکی ہے اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہو سکتا ہے دونوں میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،جبکہ عدت کے بعد عورت اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ جہاں چاہے اپنا عقد نکاح کر سکتی ہے۔
کما في الشامية: تحت (قوله حرام) بخلاف فارسية قوله سرحتک و هو رها کردم) لأنه صار صريحا في العرف ( الى قوله) فأن سرحتك كناية لكنه في العرف الفرس غلب استعال في الصريح ( ج ۳ ص ۲۹) واللہ اعلم بالصواب