اگر علی نے انور کو بطورِ قرض پانچ روپے دیئے، پھر مہنگائی کی وجہ سے اس رقم کی قیمت کم ہو جاتی ہے، یا پھر اس کرنسی کا رواج ختم ہو جاتا ہے تو اس قرض یا س کی قیمت کا کیا ہوگا؟
قرض میں دی جانے والی کرنسی اگر بوقت ادائیگی بھی حسب سابق رائج ہو تو وہی کرنسی اور اتنی مقدار میں ہی لوٹانا لازم ہے، اور اگر اس وقت وہ رواج میں نہ رہی ہو تو اس صورت میں اس کی اتنی مقدار قیمت کی لوٹانا لازم ہے، جتنی اس دن بنتی تھی، جس دن اس کا رواج ختم ہوا تھا۔
ففی الدر المختار: (استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف وجعله في البزازية وغيرها قول الإمام وعند الثاني عليه قيمتها يوم القبض وعند الثالث قيمتها في آخر يوم رواجها وعليه الفتوى. (5/ 162)
وفی الفتاوى الهندية: ولو استقرض الفلوس أو العدالي فكسدت قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى عليه مثلها كاسدة ولا يغرم قيمتها وقال أبو يوسف رحمه الله تعالى عليه قيمتها يوم القبض وقال محمد رحمه الله تعالى عليه قيمتها في آخر يوم كانت رائحة وعليه الفتوى اھ (3/ 204) واللہ أعلم بالصواب!
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0