السلام علیکم۱ مفتی صاحب! یہاں مسجد الحرام میں نماز اور نمازِ جنازہ کے دوران لوگ امام کے آگے کھڑے ہوتے ہیں، خصوصاً نمازِجنازہ کے دوران امام مطاف کی حدود تک پیچھے چلا جاتا ہے اور مطاف میں لوگ جہاں پہلے تھے وہیں کھڑے رہتے ہیں۔
اور کبھی جب ہم حرم میں داخل ہوتے ہیں اور نماز ہو رہی ہوتی ہے، اور بیچ میں کافی جگہ خالی ہوتی ہے اور اگر ہم آگے جائیں تو خالی جگہ پاتے ہیں، لیکن جب تک ہم مطاف تک پہنچتے ہیں دو رکعتیں نکل جاتی ہیں، ایسی صورت میں ہم کیا کریں؟
مسجد حرام میں بھی مقتدی کا امام کی جہت میں امام سے آگے بڑھنا درست نہیں، البتہ دوسری جہات میں مقتدی امام سے خانہ کعبہ کے زیادہ بھی قریب ہو تو بھی امام کی اقتداء میں ان کی نماز درست ادا ہو جاتی ہے۔
جبکہ مسجد حرام میں آخر کی صفیں متصل ہوتی ہوں تو ایسی صورت میں اگرچہ درمیان میں جگہ خالی ہو نماز درست ادا ہو جاتی ہے، تاہم سائل کو چاہیے کہ حتی الامکان اگلی صف میں خالی جگہ تک پہنچنے کی کوشش کرے ورنہ جہاں بھی نماز پڑھے ان کی نماز درست ہو جائےگی۔
ففی الفتاوى الهندية: وإذا صلى الإمام في المسجد الحرام وتحلق الناس حول الكعبة وصلوا صلاة الإمام فمن كان منهم أقرب إلى الكعبة من الإمام جازت صلاته إذا لم يكن في جانب الإمام. كذا في الهداية. (1/ 65)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: ومن كان بينه وبين الإمام طريق عام يمر فيه الناس، أو نهر عظيم، أو خلاء (أي فضاء) في الصحراء، أو في مسجد كبير جداً (إلی قوله) لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفاً، مع اختلافهما حقيقة، فيمنع صحة الاقتداء، (إلی قوله) فإن كانت الصفوف متصلة على الطريق، كما يحصل في الحرمين أو في المساجد المزدحمة بالمصلين، جاز الاقتداء؛ لأن اتصال الصفوف أخرجه من أن يكون ممر الناس، فلم يبق طريقاً، بل صار مصلى في حق هذه الصلاة. وكذلك إن كان على النهر جسر وعليه صف متصل. اھ (2/ 1248)