ایسی بیوہ عورت جس کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو، اپنی رقم سیونگ سنٹر میں رکھ کر ماہانہ منافع لے تو وہ حلال ہوگا یا حرام ؟
کسی بھی سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر نفع (سود) حاصل کرنا نا جائز و حرام ہے، خواہ اکاؤنٹ ہولڈر کوئی بیوہ ہو، یا کوئی اور ، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ وہ خود یا کسی معتمد شخص کے ذریعے رقم کسی کا روبار میں لگا لے تو اس سے حاصل ہونے والا نفع بلاشبہ حلال ہوگا ۔
كما قال الله عز وجل : ﴿احل الله البيع وحرم الربو (إلى قوله) يا اليها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقى من الربو إن كنتم مؤمنين (البقرة:۲۰۰)
وفي صحيح مسلم: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربو ومؤ كله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء ( ۲/ ۲۱) - والله اعلم بالصواب
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0